Yagana Changezi (یگانہ چنگیزی(شخصیت و فن، مع انتخاب کلام Book Corner

Yagana Changezi (یگانہ چنگیزی(شخصیت و فن، مع انتخاب کلام

Rs.800 80000
  • Successful pre-order.Thanks for contacting us!
  • Order within
Book Title
Yagana Changezi (یگانہ چنگیزی(شخصیت و فن، مع انتخاب کلام
Author
Book Corner
Order your copy of Yagana Changezi (یگانہ چنگیزی(شخصیت و فن، مع انتخاب کلام from Urdu Book to get discount along with vouchers and chance to win books in Pak book fair.  Author: Waseem Farhat Karajnvi ISBN No: N/A Book Pages: N/A Language: Urdu Category: Urdu Literature, Biography  مجھےنہیں معلوم کہ یاس یگانہ چنگیزی پر اب تک کتنی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اس کتاب میں بھی کتابیات کی تفصیل یہ کہہ کر چھوڑ دی گئی کہ اس میں 25صفحے لگ جاتے۔ وسیم فرحت بھارت میں رہتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی یگانہ پر کام کے لیے وقف کر دی ہے۔ یہ کتاب ویسے تو یگانہ کی شخصیت و فن پر ہے، لیکن اس میں ان کی شاعری کا انتخاب بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یگانہ کے حوالے سے ان کی تین اور کتابیں بھی آنے والی ہیں۔ یگانہ سے وسیم فرحت کا تعلق یہ ہے کہ ان کے والد، خلیل فرحتت کارنجوی یگانہ کے بڑے شائق تھے۔ اُن کی حق پرستی، بصورتِ خود پرستی کو نہ صرف سمجھتے تھے، بلکہ سمجھاتے بھی تھے۔ یگانہ کو غالب مخالف کے طور پر جانا جاتا ہے، جب کہ اُنہیں غالب سے نہیں، غالب پرستوں سے اختلاف تھا اور ان کی رائے یہ تھی کہ غالب بڑا شاعر ہے، لیکن آتش سے بڑا نہیں۔ اس کے علاوہ اُنہیں غالب کی شاعری پر جو اعتراضات تھے، وہ ان کے رسالوں میں شایع ہو چکے ہیں۔ ان اعتراضات کے بارے میں وقت کے فیصلے کے باوجود اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یگانہ ایک منفرد، یگانہ اور بعد میں جدید کہلانے والی غزل کے پہلے شاعر تھے اور ان کی غزل کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے، تو محسوس ہوتا ہے کہ جدید غزل نے لہجے اور اسلوب میں جتنی تقلید یگانہ کی ہے، کسی اور شاعر کی نہیں کی۔ جو عام طور پر خود کو میر اور غالب سے قریب سمجھتے ہیں، وہ بھی لہجے، الوب اور لسانی برتائو میں یگانہ سے ازیادہ قریب ہیں، چاہے انہوں نے یگانہ کو پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ اگر نہ پڑھنے پر بھی غزل کہنے والوں پر یگانہ سے متاثر ہونے کا گمان ہوتا ہے، تو کہا جا سکتا ہے کہ یگانہ کے ہاں غزل کا مستقبل تھا۔ یہ تو اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یگانہ کو ان کی اندازِ فکر کی وجہ سے مشکل صورتوں کا سامنا رہا، لیکن اس کتاب میں شامل خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مشکلیں کتنی سنگین تھیں۔ یہی نہیں کہ اُن کی اہلیہ اور بچے اُنہیں چھوڑ کر پاکستان آ گئے تھے۔ اندازہ اس بات سے کریں کہ یگانہ جیسا آدمی مرنے سے پہلے صاحبِ اعتبار لوگوں کو بلاتا ہے، ان کے سامنے کلمہ پڑھتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے کہ کیا اُس نے کلمہ درست پڑھا ہے؟ اور کیا وہ مسلمان ہے؟ انتقال کے بعد کوشش کی جاتی ہے کہ اُنہیں غسل نہ دیا جاسکے۔ جنازے میں گنتی کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ یہ کتاب سنگین حقیقتوں اور کم ظرفیوں کو ہمارے سامنے لاتی اور اداس کرتی ہے۔ بلاشبہ یہ یگانہ چنگیزی کے بارے میں ایک ناگزیر کتاب ہے۔(تبصرہ نگار:انورسِن رائے، جنگ سنڈے مگیزین20تا26دسمبر2015ء) Your one-stop Urdu Book store www.urdubook.com  

Order your copy of Yagana Changezi (یگانہ چنگیزی(شخصیت و فن، مع انتخاب کلام from Urdu Book to get discount along with vouchers and chance to win books in Pak book fair. 

Author: Waseem Farhat Karajnvi 
ISBN No: N/A 
Book Pages: N/A 
Language: Urdu 
Category: Urdu Literature, Biography 

مجھےنہیں معلوم کہ یاس یگانہ چنگیزی پر اب تک کتنی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اس کتاب میں بھی کتابیات کی تفصیل یہ کہہ کر چھوڑ دی گئی کہ اس میں 25صفحے لگ جاتے۔ وسیم فرحت بھارت میں رہتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی یگانہ پر کام کے لیے وقف کر دی ہے۔ یہ کتاب ویسے تو یگانہ کی شخصیت و فن پر ہے، لیکن اس میں ان کی شاعری کا انتخاب بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یگانہ کے حوالے سے ان کی تین اور کتابیں بھی آنے والی ہیں۔ یگانہ سے وسیم فرحت کا تعلق یہ ہے کہ ان کے والد، خلیل فرحتت کارنجوی یگانہ کے بڑے شائق تھے۔ اُن کی حق پرستی، بصورتِ خود پرستی کو نہ صرف سمجھتے تھے، بلکہ سمجھاتے بھی تھے۔ یگانہ کو غالب مخالف کے طور پر جانا جاتا ہے، جب کہ اُنہیں غالب سے نہیں، غالب پرستوں سے اختلاف تھا اور ان کی رائے یہ تھی کہ غالب بڑا شاعر ہے، لیکن آتش سے بڑا نہیں۔ اس کے علاوہ اُنہیں غالب کی شاعری پر جو اعتراضات تھے، وہ ان کے رسالوں میں شایع ہو چکے ہیں۔ ان اعتراضات کے بارے میں وقت کے فیصلے کے باوجود اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یگانہ ایک منفرد، یگانہ اور بعد میں جدید کہلانے والی غزل کے پہلے شاعر تھے اور ان کی غزل کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے، تو محسوس ہوتا ہے کہ جدید غزل نے لہجے اور اسلوب میں جتنی تقلید یگانہ کی ہے، کسی اور شاعر کی نہیں کی۔ جو عام طور پر خود کو میر اور غالب سے قریب سمجھتے ہیں، وہ بھی لہجے، الوب اور لسانی برتائو میں یگانہ سے ازیادہ قریب ہیں، چاہے انہوں نے یگانہ کو پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ اگر نہ پڑھنے پر بھی غزل کہنے والوں پر یگانہ سے متاثر ہونے کا گمان ہوتا ہے، تو کہا جا سکتا ہے کہ یگانہ کے ہاں غزل کا مستقبل تھا۔ یہ تو اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یگانہ کو ان کی اندازِ فکر کی وجہ سے مشکل صورتوں کا سامنا رہا، لیکن اس کتاب میں شامل خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مشکلیں کتنی سنگین تھیں۔ یہی نہیں کہ اُن کی اہلیہ اور بچے اُنہیں چھوڑ کر پاکستان آ گئے تھے۔ اندازہ اس بات سے کریں کہ یگانہ جیسا آدمی مرنے سے پہلے صاحبِ اعتبار لوگوں کو بلاتا ہے، ان کے سامنے کلمہ پڑھتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے کہ کیا اُس نے کلمہ درست پڑھا ہے؟ اور کیا وہ مسلمان ہے؟ انتقال کے بعد کوشش کی جاتی ہے کہ اُنہیں غسل نہ دیا جاسکے۔ جنازے میں گنتی کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ یہ کتاب سنگین حقیقتوں اور کم ظرفیوں کو ہمارے سامنے لاتی اور اداس کرتی ہے۔ بلاشبہ یہ یگانہ چنگیزی کے بارے میں ایک ناگزیر کتاب ہے۔

(تبصرہ نگار:انورسِن رائے، جنگ سنڈے مگیزین20تا26دسمبر2015ء)

Your one-stop Urdu Book store www.urdubook.com  

Order your copy of Yagana Changezi (یگانہ چنگیزی(شخصیت و فن، مع انتخاب کلام from Urdu Book to get discount along with vouchers and chance to win books in Pak book fair. 

Author: Waseem Farhat Karajnvi 
ISBN No: N/A 
Book Pages: N/A 
Language: Urdu 
Category: Urdu Literature, Biography 

مجھےنہیں معلوم کہ یاس یگانہ چنگیزی پر اب تک کتنی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اس کتاب میں بھی کتابیات کی تفصیل یہ کہہ کر چھوڑ دی گئی کہ اس میں 25صفحے لگ جاتے۔ وسیم فرحت بھارت میں رہتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی یگانہ پر کام کے لیے وقف کر دی ہے۔ یہ کتاب ویسے تو یگانہ کی شخصیت و فن پر ہے، لیکن اس میں ان کی شاعری کا انتخاب بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ یگانہ کے حوالے سے ان کی تین اور کتابیں بھی آنے والی ہیں۔ یگانہ سے وسیم فرحت کا تعلق یہ ہے کہ ان کے والد، خلیل فرحتت کارنجوی یگانہ کے بڑے شائق تھے۔ اُن کی حق پرستی، بصورتِ خود پرستی کو نہ صرف سمجھتے تھے، بلکہ سمجھاتے بھی تھے۔ یگانہ کو غالب مخالف کے طور پر جانا جاتا ہے، جب کہ اُنہیں غالب سے نہیں، غالب پرستوں سے اختلاف تھا اور ان کی رائے یہ تھی کہ غالب بڑا شاعر ہے، لیکن آتش سے بڑا نہیں۔ اس کے علاوہ اُنہیں غالب کی شاعری پر جو اعتراضات تھے، وہ ان کے رسالوں میں شایع ہو چکے ہیں۔ ان اعتراضات کے بارے میں وقت کے فیصلے کے باوجود اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یگانہ ایک منفرد، یگانہ اور بعد میں جدید کہلانے والی غزل کے پہلے شاعر تھے اور ان کی غزل کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے، تو محسوس ہوتا ہے کہ جدید غزل نے لہجے اور اسلوب میں جتنی تقلید یگانہ کی ہے، کسی اور شاعر کی نہیں کی۔ جو عام طور پر خود کو میر اور غالب سے قریب سمجھتے ہیں، وہ بھی لہجے، الوب اور لسانی برتائو میں یگانہ سے ازیادہ قریب ہیں، چاہے انہوں نے یگانہ کو پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ اگر نہ پڑھنے پر بھی غزل کہنے والوں پر یگانہ سے متاثر ہونے کا گمان ہوتا ہے، تو کہا جا سکتا ہے کہ یگانہ کے ہاں غزل کا مستقبل تھا۔ یہ تو اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یگانہ کو ان کی اندازِ فکر کی وجہ سے مشکل صورتوں کا سامنا رہا، لیکن اس کتاب میں شامل خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مشکلیں کتنی سنگین تھیں۔ یہی نہیں کہ اُن کی اہلیہ اور بچے اُنہیں چھوڑ کر پاکستان آ گئے تھے۔ اندازہ اس بات سے کریں کہ یگانہ جیسا آدمی مرنے سے پہلے صاحبِ اعتبار لوگوں کو بلاتا ہے، ان کے سامنے کلمہ پڑھتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے کہ کیا اُس نے کلمہ درست پڑھا ہے؟ اور کیا وہ مسلمان ہے؟ انتقال کے بعد کوشش کی جاتی ہے کہ اُنہیں غسل نہ دیا جاسکے۔ جنازے میں گنتی کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ یہ کتاب سنگین حقیقتوں اور کم ظرفیوں کو ہمارے سامنے لاتی اور اداس کرتی ہے۔ بلاشبہ یہ یگانہ چنگیزی کے بارے میں ایک ناگزیر کتاب ہے۔

(تبصرہ نگار:انورسِن رائے، جنگ سنڈے مگیزین20تا26دسمبر2015ء)

Your one-stop Urdu Book store www.urdubook.com