SMS & Whatsapp Helpline

+92-3400-38-0000

Taleem aur Hamari Qoumi Uljhanain

  • Brand: Fiction House
  • Availability: 3 In Stock
  • SKU:

Rs.400

Order your copy of Taleem aur Hamari Qoumi Uljhanain published by Fiction House from Urdu Book to get a huge discount along with FREE Shipping and chance to win free books in the book fair and Urdu...

Order your copy of Taleem aur Hamari Qoumi Uljhanain published by Fiction House from Urdu Book to get a huge discount along with FREE Shipping and chance to win free books in the book fair and Urdu bazar online.

Author: Arshad Mahmood 
ISBN No: 9789695625736
Publisher: Fiction House
Publish Date: 2018
Language: Urdu
Book Pages: 216 
Weight: info not available
Book Size: - info not available
Color: - info not available

یہ ارشد محمود کی نئی کتاب کا عنوان ہے۔ یہ کتاب متن اور اسلوب کے لحاظ سے اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے اور وہ بھی اردو میں۔ اردو میں سائنسی اور تجزیاتی اسلوب پر مبنی بہت کم کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے ایسے سوال اٹھائے ہیں جن کے جواب ہمارا معاشرہ دینا نہیںچاہتا۔ اس لیے حاکم اقلیت نے ان سوالوں کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں۔ ہم تاریخ نہ پڑھتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ تاریخی قوانین کے بارے میں ہمارا علم صفر کے برابر ہے۔ اسی لیے ابن خلدون کے بعد مسلمانوں میں کوئی دوسرا محقق تاریخ دان پیدا نہیں ہوا۔ تاریخ کا پہلا سبق جسے ہم نے پہچانا نہیں وہ یہ ہے کہ امپریلزم کا دور ختم ہو چکا ہے۔ بڑی بڑی سلطنتوں کی جگہ قومی ریاستوں نے لے لی ہے۔ دولت عثمانیہ کے اختتام پر یورپ ایشیاء اور افریقہ تینوں براعظموں میں قومی ریاستیں وجود میں آچکی ہیں۔ یورپ میں تو کسی حد تک ایک مستحکم نظام وجود میں آگیا مگر ایشیاء اور افریقہ ابھی سیاسی اور معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ اشتراکی روس کے انتشار کے بعد مشرقی یورپ میں جہاں مسلمانوں کی آبادی ایک مرکزی شکل اختیار کیے ہوئے ہے وہاں بھی امن قائم نہیں ہو سکا۔
اسی طرح برصغیر ہندوپاک میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد قومی ریاستیں تو وجود میں نہ آسکیں لیکن ایک نیا اپریلزم قائم ہوگیا۔ یہ دور اپنے سیاسی‘ اقتصادی اور سماجی مزاج میں مغلیہ دور سے بہت مختلف تھا۔ سیاست میں شاہی سلطنت کی جگہ اگرچہ برطانیہ کی حکومت تھی مگر یہ حکومت قانون سازی کرتی‘ اسے لکھتی اور اس لکھے ہوئے قانون کے مطابق حکومت چلاتی‘ یہ قانون سازی انگلستان میں ہوتی اور ایک وائسرائے حکومت ہند اور حکومت برطانیہ میں بنیادی تعلق قائم رکھتا۔ اس عملداری میں برصغیر کے لوگ بھی شامل کیے گئے۔ ایک (Representative Government) کا تصور اور ڈھانچہ وجود میں آیا۔ اقتصادیات کی شکل بھی بدلی۔ تجارت‘ صنعت اور ان سے تعلق رکھنے والے محکمے وجود میں آئے۔ ریلوں اور نہروں کا جال بچھایا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ترقی کی مدد سے انگریز نے کروڑوں کمائے مگر اس سے بھی انکار نہیں کہ ہندوستان میں معاشی ترقی کی نئی لہر پیدا ہوئی۔ اس نظام کو چلانے کے لیے تمام تر لوگ انگلستان سے تو نہیں آسکتے تھے لہٰذا برصغیر کے لوگوں کو نئی تعلیم دینے کا فیصلہ لارڈ کرزن کے دور میں شروع کیا گیا۔ اس ضمن میں ارشد محمود نے لارڈ کرزن کی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’رٹے کی عادت پیدا کرکے لوگ کسی طور ذہانت کے پیمانے کو عبور نہیں کرسکتے۔ یادداشت‘ بذات خود عقل نہیں ہے۔ وہ ذہن کی ایک صلاحیت ہے۔ مگر ہم طلباء کی یادداشت ہی تیز کیے جا رہے ہیں۔ اسی طور ان کے ذہنوں میں جیومیٹری‘ فزکس‘ الجبرا‘ منطق وغیرہ ٹھونس رہے ہیں پھر ان کی یادداشت کا امتحان لیتے ہیں۔ رٹے کی تعلیم پانی پر پڑی لکیر کی مانند ہے۔ ہمیں ہندوستانی تعلیم کو اس سطح سے اٹھانا چاہیے۔ اعلیٰ درجے کے اساتذہ کو لاکر ماہرانہ تعلیم کو منضبط کرنا ہوگا۔

Your one-stop Urdu book store www.urdubook.com

  • -> Cash on delivery and Nationwide Free shipping on all orders worth Rs 1000 or above
  • -> Worldwide Free shipping is applicable on all orders worth USD 300 or above
  • -> PayPal payment method is available on request for international customers
  • -> Orders received till 1 PM Pakistan time are shipped on next day
  • -> We are a distributor and try our best to update the stock availability but sometimes the publishers don't have real time stock updates, in that case we will let you know if your ordered book is out of stock