Contact us on Whatsapp

+92-3400-38-0000

Aur Don Behta Raha اور ڈان بہتا رہا

  • Availability: 3 In Stock
  • SKU:

Rs.999

Order your copy of Aur Don Behta Raha اور ڈان بہتا رہا published by Book Corner from Urdu Book to get discount along with vouchers and chance to win books in Pak book fair.  Author: Mikhail Sholokhov ISBN No: 978-969-662-270-3 Publisher: Book Corner Book Pages: 504 Language: Urdu  Category: Fiction, Urdu Novel  :پسِ...

Order your copy of Aur Don Behta Raha اور ڈان بہتا رہا published by Book Corner from Urdu Book to get discount along with vouchers and chance to win books in Pak book fair. 

Author: Mikhail Sholokhov 
ISBN No: 978-969-662-270-3 
Publisher: Book Corner 
Book Pages: 504 
Language: Urdu  
Category: Fiction, Urdu Novel 

:پسِ ورق

عظیم رُوسی مصنف میخائیل شولوخوف کا نوبل انعام یافتہ ناول ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ پوری دُنیا میں معروف و مقبول ہے۔ اس ناول میں بیسویں صدی کے ابتدائی دو عشروں کے رُوس کی ثقافت و معاشرت اور اجتماعی و انفرادی نفسیات کا بےمثال فن کارانہ بیان ہے۔ ناول کی کہانی دریائے ڈان کے کنارے آباد رُوسی کاسکوں کے گِرد گھومتی ہے۔ دل کش منظر کشی، جزئیات نگاری، کردار نگاری اور دل نشیں اسلوبِ نگارش کے باعث یہ ناول قاری کی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہاں سماجی حقیقت نگاری (Social Realism) کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ حقیقت افسانے سے بڑھ کر تحیر خیز ہوتی ہے۔ یہی وجہ سے کہ ہم جوں جوں ناول پڑھتے جاتے ہیں اس کے کردار ہمارے ارد گرد چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ یہی ایک غیر معمولی ادبی شہ پارے کی نشانی ہوتی ہے۔ پہلی عالمی جنگ (۱۹۱۴-۱۹۱۸ء) اور بالشویک انقلاب (۱۹۱۷ء) کے تفصیلی ادبی بیان نے اس ناول کو بےحد اہم بنا دیا ہے۔ مصنف نے انقلاب کے حالات اور کرداروں کی جس طرح لفظی تصویر کشی کی ہے وہ کسی فنی معجزے سے کم نہیں ہے۔ انقلابِ رُوس کے تعلق سے بےپناہ ادب تخلیق ہوا لیکن زیرِنظر ناول جیسی فن کارانہ دیانت، غیر جانب داری، بےباکی اور انسان دوستی شاید ہی کسی اور ناول میں نظر آئے۔ یہاں انسان نظریے سے اہم تر دکھائی دیتا ہے۔ امن، جنگ، انقلاب اور خانہ جنگی کا احوال بیان کرتے ہوئے ناول نگار کی چابک دستی اور بیان پر گرفت داد سے بالا ہے۔ مخمور جالندھری نے جس محنت، مہارت اور ہمہ گیری سے ناول کا اردو ترجمہ کیا اس کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔ اس اعلیٰ درجے کے ناول کا ترجمہ بھی اتنا ہی اعلیٰ درجے کا ہوا ہے۔ مترجم کی اُردو زبان پر تخلیقی گرفت اور مناسب ترین الفاظ کا چناؤ قابلِ تحسین ہی نہیں قابلِ تقلید بھی ہے۔ ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ نہ صرف رُوسی بلکہ عالمی ادب میں بھی ایک شہ کار ہے۔ بڑا ادب پڑھنے کے شوقین افراد کے لیے یہ ناول ایک سوغات سے کم نہیں۔

:مصنف کے بارے میں

میخائیل شولوخوف ۱۹۰۵ء میں ویشانسکایا، رُوس میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانا نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ ۱۹۱۸ء میں محض تیرہ سال کی عمر میں شولوخوف کو تعلیم چھوڑ کر روسی خانہ جنگی میں شامل ہونا پڑا۔ وہ بالشویکوں کی فوج میں شامل ہوئے۔ سترہ سال کی عمر میں انھوں نے افسانے لکھنے شروع کر دیے تھے۔ ۱۹۲۲ء میں وہ صحافی بننے کی امید لیے ماسکو چلے گئے جہاں وہ گزر اوقات کے لیے مزدوری بھی کرنے لگے۔ جلد ہی وہ اپنے آبائی علاقے میں پلٹ آئے اور خود کو تصنیف و تالیف کے لیے وقف کردیا۔ ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ کا عرصۂ تخلیق ۱۹۲۶ء تا ۱۹۴۰ء ہے۔ اس ناول کو ان کی تمام تصانیف میں امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ اسی ناول نے ان کو سٹالن پرائز اور نوبیل پرائز سے سرفراز کیا ۔ ان کے ایک اور ناول کو لینن پرائز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی کتابیں ۴۷ زبانوں میں ترجمہ اور ۴۵ ملکوں میں شائع ہو چکی ہیں۔ میخائیل شولوخوف کا انتقال ۱۹۸۴ء میں ہوا۔

:مترجم کے بارے میں

مخمور جالندھری کا اصل نام گوربخش سنگھ تھا۔ وہ ایک باکمال مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ نظم نگار تھے۔ ان کی شاعری کا آغاز ۱۹۳۷ء میں ہوا۔ انہوں نے متعدد قلمی ناموں سے ’’تھرلر‘‘ ناول، ریڈیائی ڈرامے اور متفرق تحریریں لکھیں۔ کرنل رنجیت، زور آور سنگھ انھی کے قلمی نام ہیں۔ رُوسی ادب کے کلاسیکی شاہکاروں کو اُردو میں منتقل کرنے کا سب سے پہلا قدم مخمور جالندھری نے اٹھایا۔ میخائیل شو لوخوف کے ’’کنوارے کھیت‘‘ اور ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ انھی کے فن ترجمہ کے شاہ کار ہیں۔ امرتا پریتم کی شاعری اور ناول کو بھی اُردو قالب میں ڈھالا۔ نٹ ہیمسن کی ’’بھوک‘‘، میکسم گورکی کی ’’دیوانہ ہے دیوانہ‘‘ کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے کئی شاہ کار ناولوں کو اُردو کا پیراہن عطا کیا۔ انھوں نے ٹالسٹائی کے عظیم ناول ’’جنگ اور امن‘‘ کو بھی اُردو میں منتقل کیا تھا مگر پبلشر کی اچانک موت نے یہ ناول مسوّدوں کی بوسیدہ الماری میں دائمی طور پر مقفل کر دیا۔ مخمور جالندھری عمر بھر علم و ادب اور صحافت سے وابستہ رہے۔ ان کا انتقال یکم جنوری ۱۹۷۹ء کو ہوا۔ ’’اور ڈان بہتا رہا‘‘ کا ترجمہ اپنی زبان، اسلوب اور بیان کی بے پناہ طاقت کے باعث ترجمہ نگاری کی دُنیا میں ایک معیار قائم کرتا نظر آتا ہے۔

Your one-stop Urdu  store www.urdubook.com

  • -> Cash on delivery available for Pakistan only
  • -> Worldwide express shipping is available
  • -> PayPal payment method is available on request for international customers
  • -> Orders received till 2 PM Pakistan time are shipped on next day
  • -> We are a distributor and try our best to update the stock availability but sometimes the publishers don't have real time stock updates, in that case we will let you know if your ordered book is out of stock